نوجوان قوم کا سرمایہ ناز

Logo १ असार २०७९, बुधबार २३:१७ | Aadil Times                  

نوجوان قوم کا سرمایہ ناز

حامدا و مصليا اما بعد :

محترم قارئین کرام. جب سے دنیا وجود میں آئی ہے تب سے لیکر آج تک کسی بھی قوم کی تباہ و بربادی یا فلاح وبہبود میں اصل کردار نوجوانوں کا ہی رہا ہے !
نوجوانی کے ایام انسانی زندگی کے قوی ترین اور اہم ترین ایام ہوتے ہیں . اس عمر ميں نوجوان جو چاہے کرسکتا ہے . ایک انسان اپنی نوجوانی کے ایام کو اگر صحیح طور سے استعمال کرتا ہے تو وہ ہر قسم کی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس کے برعکس کرتا ہے تو زندگی بھر اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا . ایک انسان اپنی نوجوانی کے عمر میں ہی مختلف قسم کے علوم و فنون کے منازل طے کرسکتاہے اور اپنی علمی تشنگی کو بجھا سکتا ہے .
کسی بھی ملک , قوم کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار بہت ہی اہم ترین ہوتا ہے نوجوان کسی بھی قوم یا ملک کا بیش قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور جب قوم کے نوجوان بلند و بالا حوصلے والے ہوں اور قوم کی ترقی کے لیے کچھ کرگزرنے کو تیار ہوں تو پہر وہ قوم ترقی یافتہ قوم و ممالک میں شمار ہونے لگتی ہے
حاصل کلام یہ ہے کہ بہترین معاشرہ اور سماج کی تشکیل میں نوجوانوں کا بہت ہی اہم ترین کردار ہوتا ہے
ایک انسان نوجوانی کے ایام میں کیا کچھ نہیں کر سکتا ہے آئیے اس کو ہم اسلامی تاریخ کے آئنے میں دیکھتے ہیں … چند مثالیں ملحوظ خاطر ہیں .
از اول تا امروز اسلامی تاریخ نوجوانوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے چاہے وہ اسلام کا پہلا گھر رارالارقم کے مالک ارقم ابن ابی الارقم ہوں , یا پھر ہجرت کی رات نبیﷺ کے بستر پر لیٹنے والے علی بن ابی طالب ہوں , یا پھر شام کی طرف جانے والے لشکر کے قائد اسامہ بن زید ہوں یا پھر فاتح ہند محمد بن قاسم ہوں یا پھر امام بخاری رحمۃ اللّہ علیہ ہوں
اسلامی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ کس طرح سے اسلام کے نوجوانوں نے اپنے نیک عزائم اور جذبۂ ایثار سے قوم و ملت کو فائدہ پہنچایا ہے اور ایک بہترین قوم تیار کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے
کیونکہ نوجوان قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہوتے ہیں
جوانی وہ نشہ ہے جو ہر چیز کو آسان کر دیتی ہے جوانی کے ایام میں انسان ہر مرحلے سے گزر سکتا ہے
لیکن دور حاضر میں یہی نوجوان طبقہ بہت ساری الجھنوں اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے خاص کر   ہمارے ملک نیپال میں!
ایک طرف تعلیم وتعلم کو لیکر تو دوسری طرف غربت  اور بے روزگاری کو لے کر اور ان نوجوانوں کو تعلیم کے معاملے میں جس پریشانی کے سبب دشواری ہو رہی ہے وہ ہے صحیح اور بہترین رہنمائی رائے و مشورہ نہ مل پانا یا ان کو جو رہنمائی مطلوب ہوتی ہے انہیں وہ رہنمائی مل نہیں پاتی خواہ وہ والدین سے یا استاد سے یا خود ان کے نفس سے
مطلوبہ اور صحیح رہنمائی نہ مل پانے سے یہی نوجوان طبقہ ہائی اسکول (10) یا انٹر میڈیٹ (12) کرنے کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر بڑے بڑے یونیورسٹیوں میں MBBS DOCTOR یا ENGINEER بننے کا خواب لیئے جاتے ہیں لیکن صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے , یا کم نمبرات ,یاتنگ دستی کی وجہ سے کچھ سے کچھ اور پڑھ لیتے ہیں
اور اس کا سبب یہی ہے بہترین رہنمائی نہ مل پانا یا کسی سے رہنمائی ہو نہ لینا
کیونکہ جب وہ نوجوان اپنے مشیر سے مشوره لے گا تو وہ مشیر اپنے استطاعت کے مطابِق ہی اسے مشورہ دے گا جس سے انہیں آگے چل کر بہت ساری پریشانیوں سے نجات مل جائے گی
لیکن فی الحال ہمارے ملک نیپال میں نوجوانوں کا طبقہ جس جانب کھینچا چلا جا رہا ہے اس کی ضرورت اتنی نہیں ہے جتنا کہ آج کا نوجوان طبقہ اس جانب مائل ہو رہا ہے اگر ضرورت ہے تو ایک انصاف پسند نیائے دھیس (جج )کی جو کہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے , اور وکیل کی جو کہ حق کے لئے باطل کے خلاف لڑے اگر ضرورت ہے تو سچے اور ایماندار جرنلسٹ میڈیا کی جو حق بات ہم تک پہنچائے
آج کے نوجوان کو انٹرنیشنل ریلیشن, پبلک ایڈمنسٹریشن, ان جیسے سبجیکٹ کا انتخاب کرنا چاہئے
کیونکہ آج ہمارے سماج اور معاشرے کو ضرورت ہے کہ سماج میں ایک بیباک صحافی ہو , انصاف پسند جج اور وکیل ہوں, کوئی ہو جو معاشیاتی باریکی کو سمجھنے والا ہو , ملکی اور غیر ملکی قانون کا علم رکہتا ہو , ایجوکیشن اور سماجیات کا ماہر ہو وغیرہ
ایک بہترین سماج کی تشکیل کے لئے ان سب چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہے اور یہ کام نوجوانوں کا طبقہ با آسانی کر سکتا ہے اسی لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے ماضی ,حال اور مستقبل کو دیکھتے ہوۓ اپنے بچوں کو تعلیمی میدان میں اتاریں
اللہ سے دعاء ہے کہ سب کو بہترین سمجھ عطاء فرماۓ آمین

محمــــــــد سلمان

gorkhali-news

सम्बन्धित खबर


gorkhali-news